بنگلورو،12؍جون(ایس او نیوز)ریاستی وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ نے کہا کہ یکساں تعلیمی پالیسی اپنانے کیلئے نجی تعلیمی ادارے ریاستی حکومت کا تعاون کریں۔ آج چامراج پیٹ کی رائل کانکوڈ انٹرنیشنل اسکول کی ساتویں شاخ کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آج اس بات کی ضرورت بہت زیادہ ہے کہ بچوں کو اخلاق پر مبنی تعلیمات سے آراستہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اخلاق کو تعلیمی نصاب کا حصہ نہیں بنایا جاتا اس وقت تک تعلیم کے حقیقی مقصد کو حاصل کرنا محال ہے۔انہوں نے کہاکہ بچوں کو اخلاقی تعلیم کے ساتھ مذہبی تعلیم سے بھی آراستہ کرنا موجودہ ماحول میں ضروری ہے۔ آج کے معاشرہ میں تعلیم کا شعبہ کافی وسیع ہوچکا ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ نجی اسکول صرف امیروں کیلئے مختص ہوگئے ہیں۔ غریبوں کو اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے سرکاری اسکولوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جبکہ متوسط طبقہ ایڈڈ اسکولوں کا رخ کرتا ہے۔اس نظام کو ختم کرکے جب تک یکساں تعلیمی نظام لاگو نہیں کیاجائے گا اور نجی اسکولوں میں بے تحاشہ فیس کی وصولی پر روک نہیں لگے گی، اس وقت تک تعلیم کے شعبے میں مساوات قائم نہیں ہوسکیں گے، نجی اسکولوں میں بھاری فیس کی وصولی پر روک لگانے کیلئے حکومت ایک قانون وضع کرنے پر غور کررہی ہے۔ اس قانون کے ذریعہ حکومت طلبا کے مفادات کی حفاظت کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ حصول علم کو فطری ضرورت بنانا چاہئے۔ علم کیلئے بھاری رقم اداکرنے کا جو رجحان پیدا ہوگیا ہے یہ انسانیت پر زیادتی کے مترادف ہے۔ معاشرہ میں تمام کو یکساں تعلیم وتربیت کا موقع اگر مل جائے تو ملک کی ترقی میں غیر یقینی تیزی آسکے گی اور جن نتائج کی ہم توقع کرتے ہیں وہ آسانی سے حاصل ہوں گے۔اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی جنتادل (ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شعبوں میں اس طرح کی ہراسانیوں پر روک لگانے کے ساتھ بچوں کو اخلاقی طور پر اس قدر طاقتور بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ زمانے کے نئے چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں اور بیرونی تہذیبوں کا شکار نہ بن پائیں۔